13 اکتوبر 2011 - 20:30

حزب اللہ لبنان نےتحریک حماس کےسیاسی شعبےکےسربراہ خالدمشعل کےاس بیان پرکہ صہیونی ریاست کےساتھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کےبارےمیں اتفاق رائےہوگیاہے ردعمل ظاہرکرتےہوئےکہاہےکہ اس اتفاق رائےسےایک بارپھرفلسطین میں استقامت کوایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ابنا: حزب اللہ لبنان کےبیان میں آیاہےکہ اس باعث مسرت واقعہ سےپتہ چلتاہےکہ لبنان اورفلسطین نیز دوسرےعرب واسلامی ممالک میں امت کی خودمختاری ، عزت وحیثیت اورآزادی کی حفاظت نیزقیدیوں کوآزاد کرانےکےسلسلےمیں استقامت کےراستے نےاپنی افادیت ثابت کردی ہے۔درایں اثنافلسطین کی منتخب حکومت کےوزیراعظم اسماعیل ہنیہ نےاعلان کیاہےکہ صہیونی فوجی گلعاد شالیت کےعوض فلسطینی قیدیوں کی رہائی کےسمجھوتےکےبعد استقامت کےپچھترفیصدمطالبات پورےہوگئےہيں اوریہ سمجھوتہ ملت فلسطین کےسامنےاسرائیل کےگھٹنےٹیکنےکےمترادف ہے۔ انھوں نےاس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ قیدیوں کےبارےميں سمجھوتہ فلسطینیوں کےلئےایک بےمثال قومی ماحصل ہےکہاکہ اس سمجھوتےنےملت فلسطین کےاہداف پورےہونےمیں استقامت کےآپشن کی افادیت ثابت کردی ہے۔تحریک حماس اور صہیونی ریاست کےدرمیان ہونےوالےسمجھوتےکےمطابق صہیونی ریاست کےایک فوجی گلعاد شالیت کی آزادی کےعوض جسےسن دوہزارچھ میں استقامت نےقیدی بنالیاتھا، ایک ہزارستائیس فلسطینی قیدیوں کوصہیونی جیلوں سےرہائی ملےگی۔تحریک حماس کےرہنماخالدمشعل نےکہاکہ پہلے مرحلے میں گالیدشالیت کےجرمنی پہنچنےپرآئندہ چندہفتوں میں چارسوپچاس قیدوں کورہائی ملےگی اور دوسرامرحلہ جوپہلےمرحلےپرعمل درآمد کےدومہینےبعدگلعادشالیت کےاسرائیل پہنچنےکےبعد قابل عمل ہوگااس میں باقی پانچ سوپچاس فلسطینی قیدیوں کوآزادی ملےگی۔ انھوں نےکہاکہ اس سمجھوتےمیں ستائیس خواتین فلسطینی قیدی بھی شامل ہیں اوراس طرح کوئی بھی فلسطینی خاتون قیدی صہیونی جیل میں باقی نہيں رہےگی۔خالدمشعل کےمطابق صہیونی جیل سےآزاد ہونےوالےقیدیوں کاتعلق غرب اردن ، غزہ ، مقبوضہ فلسطین انیس سواڑتالیس کی آراضی اور جولان اورغیرممالک میں رہنےوالےفلسطینیوں سےہے۔ اس موضوع سےملت فلسطین اوراتحاد وطن کی عکاسی ہوتی ہے۔فلسطینی عوام اس کےباوجود اس معاہدےپرخوشحال ہیں کہ صہیونی ریاست کی جاسوس تنظیم ساواک کےسربراہ یورام کوہین نےاس معاہدکےحتمی شکل لینےکےبعد اعلان کیاکہ ہم قیدیوں کےآزاد ہونےکےبعد انھیں قتل نہ کئےجانےکی کوئي ضمانت نہيں دیں گے۔بہت سےسیاسی حلقوں کاخیال ہےکہ اس موقف سے صہیونی ریاست کی دہشتگردانہ ماہیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کےباوجوداہم نکتہ یہ ہےکہ قیدیوں کی رہائی کےسمجھوتےنےایک بارپھرغاصب صہیونی ریاست کےچنگل سے برسوں سےرہائی کامطالبہ کرنےوالےعوام کی استقامت کےسامنےصہیونی ریاست کی ذلت ورسوائی کوطشت ازبام کردیاہے جوخود اپنےآپ میں ملت فلسطین کےلئےایک بہت بڑی کامیابی ہے۔...........

110/169